اصلاحاتی ڈھانچہ اور روڈ میپ

پاکستان کی ساخت میں صوبائی و بلدیاتی اصلاحات

کیا پاکستان کی اندرونی حدود کو تبدیل کرنے سے مسائل حل ہو سکتے ہیں؟ PPRI اس سوال کو محض نعروں کے بجائے 3 مراحل پر مشتمل ایک آئینی، مالیاتی اور بلدیاتی روڈ میپ کی صورت میں پیش کرتا ہے۔

مرحلہ 1

ماڈلز کا تقابلی جائزہ

انتظامی پیمانے اور آبادیاتی بوجھ کا جائزہ لیتے ہوئے 4 صوبوں کے جمود کے مقابلے میں 13 یونٹس یا ڈویژنل صوبوں کے متبادل ماڈلز تیار کرنا۔

مرحلہ 2

آئینی و مالیاتی ہم آہنگی

آرٹیکل 239 کے تحت پارلیمانی ترامیم، سینیٹ میں نئی سیٹوں کی متناسب تقسیم، اور این ایف سی ایوارڈ میں وسائل کی ازسرنو تقسیم کا خاکہ۔

مرحلہ 3

آرٹیکل 140 اے اور نفاذ

نئے صوبوں کے ساتھ ساتھ اضلاع اور تحصیلوں کو مالیاتی طور پر خودمختار بلدیاتی نظام دینا، تاکہ اختیارات صرف نئے دارالحکومتوں تک محدود نہ رہ جائیں۔

مجوزہ 13 یونٹس ماڈل کی اہم تفصیلات

PPRI کے مجوزہ ماڈل کے تحت موجودہ صوبوں کو ان کی تاریخی، انتظامی اور معاشی حقیقتوں کے مطابق منقسم کیا جا سکتا ہے، جس میں پنجاب کو 4 انتظامی اکائیوں (شمالی پنجاب/پوٹھوہار، وسطی پنجاب، مغربی پنجاب، اور بہاولپور/جنوبی پنجاب)، سندھ کو 2 اکائیوں (کراچی-حیدرآباد میٹروپولیٹن ریجن اور بالائی سندھ)، خیبر پختونخوا کو 3 اکائیوں (ہزارہ، پشاور ویلی، اور مالاکنڈ/قبائلی پٹی)، اور بلوچستان کو 3 متوازن اکائیوں میں تقسیم کرنے کی سفارشات دی گئی ہیں، جس سے ہر اکائی کی اوسط آبادی 1.5 سے 2.5 کروڑ ہو گی، جو جدید وفاقی نظام کے لیے بہترین حجم ہے۔

تفصیلی انگریزی ماڈل (Technical Models) ← آرٹیکل 239 کا آئینی طریقہ کار