تحقیقی خلاصہ و کلیدی نتائج PPRI-REP-2026-01 · اکتوبر 2026

آمدن بڑھی، تو زندگی مشکل کیوں ہوئی؟

پاکستانی گھرانوں پر مہنگائی کا دباؤ: اگرچہ کاغذ پر برائے نام اوسط آمدن میں اضافہ ہوا، لیکن بنیادی اشیاء (خوراک اور توانائی) کی قیمتوں نے نچلے اور درمیانے طبقے کی قوتِ خرید کو کس طرح نچوڑ کر رکھ دیا۔

انگریزی مکمل مقالہ (Full Technical Paper) اوپن ڈیٹا (CSV ڈاؤنلوڈ)

تحقیق کا بنیادی سوال

جب پاکستان کے سرکاری سرویز (HIES 2024-25) اوسط گھریلو آمدن میں نمایاں اضافہ دکھاتے ہیں، تو عام پاکستانی خاندانوں کو اپنے اخراجات پورے کرنے میں پہلے سے زیادہ شدید اذیت اور دشواری کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے؟

کلیدی شماریاتی حقائق

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کے ہاؤس ہولڈ انکم اینڈ ایکسپینڈیچر سروے (HIES 2024–25) اور کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے تفصیلی تقابل سے درج ذیل ٹھوس حقائق سامنے آتے ہیں:

  • خوراک اور توانائی کا بھاری بوجھ: پاکستانی گھرانے کے کل اخراجات کا 62.4 فیصد حصہ صرف خوراک (36.72%) اور رہائش/بجلی/گیس/ایندھن (25.72%) پر خرچ ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ گھر کے پاس صحت، تعلیم یا بچت کے لیے بمشکل گنجائش بچتی ہے۔
  • غذائی عدم تحفظ میں 53% کا اضافہ: درمیانے یا شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ کا شکار گھرانوں کی شرح 2018-19 میں 15.92% تھی جو 2024-25 میں بڑھ کر 24.35 فیصد ہو گئی۔ شہری علاقوں میں یہ شرح 9.22% سے دوگنا ہو کر 20.58% تک جا پہنچی۔
  • طبقاتی خلیج میں وسعت: امیر ترین 20 فیصد طبقے کی اوسط آمدن میں 119.3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ غریب ترین 20 فیصد طبقے کی آمدن میں صرف 80.5 فیصد اضافہ ہوا۔ اس سے امیر اور غریب کے درمیان معاشی فاصلہ تیزی سے بڑھا۔

پاکستان میں آمدن کے پانچ معاشی طبقات (Quintiles) کا جائزہ

معاشی طبقہ (Quintile) اوسط ماہانہ آمدن (روپے) آمدن میں اضافہ (2018 تا 2025)
غریب ترین 20 فیصد (Q1) Rs 41,851 +80.5%
دوسرا نچلا طبقہ (Q2) Rs 55,138 +89.8%
درمیانہ طبقہ (Q3) Rs 65,741 +109.6%
بالائی درمیانہ طبقہ (Q4) Rs 80,387 +113.6%
امیر ترین 20 فیصد (Q5) Rs 139,317 +119.3%

ماخذ: پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس، HIES سروے 2024-25، کنزیومر پرائس ریسرچ ڈویژن۔

پالیسی سفارشات اور صوبائی نتائج

1. بقا کی اشیاء پر ٹیکسوں کی فوری معطلی

آٹا، دالیں، گھی اور گھریلو بجلی کے ابتدائی سلیب پر عائد بالواسطہ ٹیکس (Indirect Taxes) ختم کیے جائیں کیونکہ یہ نچلے طبقے سے ان کی آمدن کا سب سے بڑا حصہ چھین لیتے ہیں۔

2. بلدیاتی سطح پر اجناس کی ترسیل

صوبائی حکومتوں کے بجائے منتخب بلدیاتی کونسلوں کو ضلعی سطح پر اجناس کی قیمتوں اور ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے کے انتظامی و قانونی اختیارات دیے جائیں۔

مکمل انگریزی تحقیقی مقالہ پڑھیں

اس موضوع پر 30 صفحات پر مشتمل مکمل شماریاتی تجزیہ، چارٹس اور اکانومیٹرک ماڈلنگ دستیاب ہے۔

مکمل رپورٹ کھولیں (Full Report) ←