ایک ہی ملک، مختلف زندگیاں: اضلاعی تفریق
پاکستان کے سرکاری صوبائی اوسط کے اعداد و شمار اندرونی تفریق کو چھپا لیتے ہیں۔ ایک ہی صوبے کے دو مختلف اضلاع میں صاف پانی، پرائمری تعلیم اور غذائی تحفظ میں 40 سے 60 فیصد کا فرق پایا جاتا ہے۔
تحقیق کا بنیادی سوال
کیا پاکستان کا آئین تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے جب پیدائش کا ضلع اکیلا یہ طے کرتا ہو کہ آیا بچے کو پینے کا صاف پانی، اسکول میں بیٹھنے کی جگہ، اور ہسپتال کی ایمرجنسی میسر ہو گی یا نہیں؟
کلیدی شماریاتی حقائق
- پینے کے صاف پانی میں خلیج: لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں نلکے یا فلٹر شدہ محفوظ پانی تک رسائی 94 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ راجن پور، ڈیرہ غازی خان، تھرپارکر اور قلات کے دیہی علاقوں میں یہ شرح 30 فیصد سے بھی کم ہے۔
- غذائی عدم تحفظ کی جغرافیائی تقسیم: بلوچستان کے دور دراز اضلاع میں 40 فیصد سے زائد گھرانے شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں یہ شرح نصف ہے۔ اسی طرح جنوبی پنجاب کے اضلاع میں خوراک کی کمی وسطی پنجاب کی نسبت دگنی ہے۔
- ترقیاتی فنڈز کی مرکزیت: صوبائی بجٹ کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ صرف دارالحکومت اور بڑے ڈویژنل شہروں پر خرچ ہوتا ہے جبکہ دور دراز اضلاع کو آبادی کے تناسب سے بھی آدھا ترقیاتی بجٹ ملتا ہے۔
ادارہ جاتی سفارشات
1. ضلعی مساوات انڈیکس (District Equity Formula)
صوبائی بجٹ کی تقسیم میں آبادی کے ساتھ ساتھ پسماندگی، دارالحکومت سے فاصلہ، اور اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد کو باقاعدہ فارمولے میں شامل کیا جائے۔
2. علاقائی انتظامی اکائیوں کا قیام
پسماندہ ڈویژنوں کو نئے خود مختار صوبائی یونٹس کا درجہ دیا جائے تاکہ ان کے اپنے سول سیکرٹریٹس اور ہائی کورٹ بینچز مقامی سطح پر وسائل کے تحفظ کو یقینی بنا سکیں۔
مکمل انگریزی تحقیقی مقالہ پڑھیں
130 سے زائد اضلاع کے نقشہ جات، انڈیکیٹر ٹیبلز اور جی آئی ایس ماڈلنگ دیکھنے کے لیے انگریزی مقالہ ملاحظہ کریں۔
مکمل رپورٹ کھولیں (Full Report) ←