تحقیقی خلاصہ و کلیدی نتائج PPRI-REP-2026-05 · اکتوبر 2026

کیا پیسہ عوام کے قریب خرچ ہو تو بہتر نتائج دیتا ہے؟

ترقیاتی اخراجات کی صوبائی مرکزیت نے بلدیاتی اداروں کو معطل اور محروم کر رکھا ہے۔ یہ رپورٹ پاکستان کی تاریخ اور بین الاقوامی وفاقوں کے شواہد سے ثابت کرتی ہے کہ مقامی سطح پر خرچ ہونے والا پیسہ زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔

انگریزی مکمل مقالہ (Full Technical Paper) ڈی سینٹرلائزیشن بینچ مارکس (CSV)

تحقیق کا بنیادی سوال

جب ترقیاتی فنڈز دارالحکومت کے سیکرٹریٹس اور ارکانِ اسمبلی کے صوابدیدی فنڈز کے بجائے منتخب بلدیاتی ناظمین اور میئرز کے پاس ہوتے ہیں، تو کیا گلی، نالی، پینے کے پانی، صفائی اور اسکولوں کی دیکھ بھال زیادہ تیزی اور سستی لاگت میں مکمل ہوتی ہے؟

کلیدی شماریاتی حقائق

  • بلدیاتی بجٹ کا تاریخی زوال: پاکستان میں 2001 کے بلدیاتی نظام کے تحت کل پبلک ایکسپینڈیچر کا تقریباً 10% بلدیاتی سطح پر خرچ ہوتا تھا، جو بعد میں گھٹ کر 4.5 فیصد سے بھی کم رہ گیا۔ تقابل کے لیے، او ای سی ڈی (OECD) ممالک میں بلدیات کا اوسط حصہ 40 فیصد سے زائد ہے۔
  • پیسے کی افادیت (Public Value for Money): مقامی سطح پر کونسل کی نگرانی میں بننے والی گلیوں اور اسکولوں کی مرمت صوبائی محکموں کی نسبت 25 سے 40 فیصد کم لاگت میں اور بغیر دفتری کمیشن کے مکمل ہوتی ہے۔
  • دارالحکومت کا ترجیحی خرچ: صوبائی ترقیاتی بجٹ کا ایک بڑا حصہ صرف چند میگا پروجیکٹس (میٹرو، فلائی اوورز) پر دارالحکومت میں لگ جاتا ہے جبکہ صوبے کی 80 فیصد دیہی آبادی بنیادی سیوریج اور پینے کے پانی سے محروم رہتی ہے۔

آئینی و قانونی تجاویز

1. آرٹیکل 140 اے میں فنانشل گارنٹی

آئین میں ترمیم کر کے صوبائی ریونیو کا کم از کم 35 فیصد لازمی طور پر مقامی کونسلوں کو منتقل کرنے کی شق شامل کی جائے۔

2. پارلیمنٹیرینز کے ترقیاتی فنڈز کا خاتمہ

قانون سازوں (ایم این اے اور ایم پی اے) کو ترقیاتی اسکیموں کے نام پر فنڈز دینے کا سلسلہ مکمل بند کیا جائے تاکہ وہ صرف قانون سازی پر توجہ دیں اور ترقیاتی کام منتخب بلدیاتی نمائندوں کے سپرد ہوں۔

مکمل انگریزی تحقیقی مقالہ پڑھیں

بین الاقوامی وفاقوں (بھارت، برازیل، انڈونیشیا، جرمنی) کے تقابلی چارٹس کے لیے مکمل مقالہ دیکھیں۔

مکمل رپورٹ کھولیں (Full Report) ←