شواہد پر مبنی ریسرچ سیریز

فلیگ شپ پالیسی رپورٹس کے خلاصہ جات

ہر رپورٹ پاکستان کے کسی بنیادی معاشی، آئینی یا انتظامی سوال کا احاطہ کرتی ہے۔ نیچے دیے گئے لنکس سے اردو خلاصہ، انٹرایکٹو شماریات اور مکمل انگریزی تحقیقی مقالے تک رسائی حاصل کریں۔

رپورٹ PPRI-REP-2026-01 · معیشت و افراطِ زر

آمدن بڑھی، تو زندگی مشکل کیوں ہوئی؟

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے تازہ ترین HIES 2024-25 سروے کا باریک بینی سے جائزہ۔ اس تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ کاغذ پر اوسط تنخواہوں میں اضافہ ہوا، لیکن خوراک اور بجلی/گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے درمیانے اور نچلے طبقے کے گھرانوں کا 62.4% بجٹ صرف بقا کی اشیاء پر خرچ ہو رہا ہے، جس سے غذائی عدم تحفظ 24.35% تک جا پہنچا۔

رپورٹ PPRI-REP-2026-02 · بیوروکریسی کا بوجھ

ایک معمولی کام کی قیمت: بیوروکریسی کی لاگت

سرکاری پورٹل کی 66 لاکھ شکایات اور وفاقی و صوبائی محتسبین کے شواہد کی بنیاد پر بیوروکریسی کا انتظامی بوجھ انڈیکس (Administrative Burden Index)۔ ایک عام پاکستانی شناختی کارڈ، ڈومیسائل، زمین کا فرد یا پیدائشی سرٹیفکیٹ بنوانے کے لیے سرکاری فیس کے علاوہ کتنی دیہاڑیاں اور سفری اخراجات برداشت کرتا ہے۔

رپورٹ PPRI-REP-2026-03 · اضلاعی تفریق

ایک ہی ملک، مختلف زندگیاں: اضلاعی تفریق

پاکستان کے 130 سے زائد اضلاع میں شہریوں کی زندگیوں کے تضادات۔ دارالحکومتوں اور بڑے شہروں میں صاف پانی اور انٹرنیٹ 95% سے زائد ہے جبکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع اور جنوبی پنجاب کے اضلاع میں پینے کے پانی اور بنیادی اسکولوں کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔

رپورٹ PPRI-REP-2026-04 · رشوت بطور نجی ٹیکس

وہ رشوت جو دکھائی نہیں دیتی: نجی ٹیکس کے طور پر بدعنوانی

بدعنوانی محض اخلاقی برائی نہیں بلکہ شہریوں پر عائد ہونے والا انتہائی رجعت پسند (Regressive) نجی ٹیکس ہے۔ امیر افراد کے مقابلے میں نچلے طبقے کے محنت کش اپنی ماہانہ آمدن کا 10 سے 15 فیصد حصہ پولیس، پٹوار خانے اور بلدیاتی اداروں میں کام کرانے کے لیے غیر رسمی ادائیگیوں کی نذر کرتے ہیں۔

رپورٹ PPRI-REP-2026-05 · بلدیاتی فنانس

کیا پیسہ عوام کے قریب خرچ ہو تو بہتر نتائج دیتا ہے؟

بین الاقوامی وفاقوں اور پاکستان کی اپنی تاریخ کا تقابلی معاشی جائزہ۔ جب ترقیاتی بجٹ سیکرٹریٹ سے نکل کر بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے اسکولوں، ڈسپنسریوں اور سڑکوں پر خرچ ہوتا ہے تو فی روپے کی افادیت 40 فیصد تک بڑھ جاتی ہے، جبکہ صوبائی مرکزیت نے مقامی اداروں کو لاچار بنا رکھا ہے۔